اسلامی نظریاتی کونسل نے جنس کی وضاحت اور ٹرانس جینڈر کی حالت میں فرق واضح کیا، اور اسلامی نقطہ نظر سے علاج کی اجازت یا ممانعت پر تفصیلی وضاحت پیش کی۔
اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین انصر جاوید، چیف سرجن پروفیسر ڈاکٹر افضل شیخ، اور ایچ او ڈی طاہرہ جاوید چوہدری نے شرکت کی۔ انصر جاوید نے بتایا کہ ٹرانس جینڈر ایک نفسیاتی بیماری ہے جسے ‘جینڈر ڈسفوریا’ کہا جاتا ہے، اور ان کا علاج نفسیاتی طریقوں سے ممکن ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر افضل شیخ نے بتایا کہ جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کی دو سے تین سرجریوں کے ذریعے ان کی جنس کو واضح کیا جا سکتا ہے، جو کہ پیدائش کے وقت اللہ کی طرف سے عطا کی گئی جنس کو درست کرنے کے مترادف ہے۔
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی نے واضح کیا کہ اسلام میں جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کی سرجری کی اجازت ہے تاکہ یہ نقص دور ہو کر وہ معاشرے کا حصہ بن سکیں۔ تاہم، ٹرانس جینڈر کی حالت کو ایک نفسیاتی بیماری قرار دیتے ہوئے، اسلام میں اپنی مرضی سے جنس تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کو پشاور میں سینٹر کھولنے کا مشورہ دیا اور اس میں مدد کرنے کا وعدہ کیا۔
اسلامی نقطہ نظر
اس اجلاس کی بھرپور کوریج کی گئی، اور تمام بڑے نیوز پیپرز اور ٹی وی چینلز نے اس کی خبریں نشر کیں۔ اے پی پی اسلام آباد کے رپورٹر ریحان خان نے اس گفتگو کو تفصیل سے رپورٹ کیا۔