شعور کی اس مہم نے کئی نوجوانوں اور والدین کو ماہرین سے رہنمائی لینے پر مجبور کیا، جنہوں نے بر وقت چیک اپ اور درست فیصلے سے زندگی بدل دینے والا فائدہ اٹھایا۔
ایک نوجوان کو کسی نے یہ غلط فہمی ڈال دی کہ اس کی جنس واضح نہیں ہے پروفیسر ڈاکٹر افضل شیخ نے ہفتہ وار او پی ڈی کے دوران اس نوجوان کو یقین دلایا کہ اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اس نوجوان نے خوشی میں اپنے گھر والوں کی ڈاکٹر افضل شیخ صاحب کی فون پر بات کروائی اسی طرح دو جوان لڑکیوں کے ماں باپ نے شعور اور اگاہی نہ ہونے کی وجہ سے جو ان کے مسائل چھوٹی عمر میں حل ہو سکتے تھے بڑی عمر میں ا کر مشکلات کا شکار ہو گئی مگر برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن نے انہیں تمام پہلوؤں سے اگاہ کر کر فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا یہ سارا کچھ اپ لوگوں کی ہمارے ساتھ مل کر شعور اور اگاہی کی مہم کو اپنے سوشل میڈیا بے شیئر کر دے سے بڑی ہے اور ان تمام افراد کا یہی کہنا تھا کہ ہمیں سوشل میڈیا سے برڈ ایفیکٹ فاؤنڈیشن اور اس کے کام کا پتہ چلا تب ہمیں احساس ہوا کہ ہمیں بھی چیک اپ کروانا چاہیے اپ تمام لوگوں کو اجر تو اللہ تعالی ہی دے گا ہم تو اپ کے شکر گزار ہیں